جگر مراد آبادی

جگر مراد آبادی کا نام علی سکندر تھا اور وہ 1890ء میں مراد آباد میں پیدا ہوئے۔آپ کم عمر میں ہی اپنے والد سے محروم ہو گئے اور آپ کا بچپن آسان نہیں تھا۔  تعلیم آپ نے مدرسے سے اردو اور فارسی سیکھی۔ شروع میں آپ کے شاعری کے استاد رسہ رامپوری تھے۔ آپ غزل لکھنے کے ایک سکول سے تعلق رکھتے تھے۔ بلا کے مے نوش تھے مگر بڑھا پے میں تا ئب ہو گئے تھے -  وفات آپ کا 9 ستمبر 1960ء کو انتقال ہو گیا۔  منسوبات گوندا میں ایک رہائشی کالونی کا نام آپ کے نام پر 'جگر گنج ' رکھا گیا ہے۔ وہاں ایک اسکول کا نام بھی آپ کے نام پر جگر میموریل انٹر کالج رکھا گیا ہے۔  شاعری جگر مرادآبادی اردو شاعری کے چمکتے ستاروں میں شمار ہوتے ہیں کیوں کہ ان کی شاعری ان کی رنگارنگ شخصیت،رنگ تغزّل اور نغمہ و ترنم کی آمیزش کا نتیجہ ہے جس نے انہیں اپنے زمانے بے حد مقبول اور ہردلعزیز بنا دیا تھا۔جگر کوشاعری کا ذوق بچپن سے ہی تھا کیوں کہ والد مولوی علی نظر اور چچا مولوی علی ظفر دونوں شاعر تھے اور بے حد مقبول تھے۔ ان کا دیوان کلیات جگر کے نام سے بازار میں دستیاب ہے جو ان کی غزلوں، نظموں قصائد و قطعات کا مجموعہ ہے۔ اس دیوان کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا دیباچہ آل احمد سرور نے لکھا ہے جنہوں نے کلیات کا عکس اتار کر رکھ دیا ہے۔  آل احمد سرور کہتے ہیں:  ”جگر ایک رومانی شاعر ہیں۔ رومان کسی نہ کسی حقیقت کو ہی خوابوں میں پیش کرتا ہے۔ جگر کے یہاں بھی خواب اور حقیقت کی دھوپ چھاؤں نظر آتی ہے۔